بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شک کی وجہ سے طلاق کا حکم

سوال

 کسی بندہ کو شک ہوا کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دےدی تو اس نے اپنے آپ سے سوال کیا کہ کیا  میں نے  یہ کہاتھا کہ میری بیوی کو طلاق ہے۔کیا اس سےطلاق ہو جا تی ہے؟

جواب

محض شک سے طلاق واقع نہیں ہوتی،اسی طرح اپنے آپ سے مخاطب ہوکر یہ کہنا کہ "کیا  میں نے  یہ کہاتھا کہ میری بیوی کو طلاق ہے؟" ان الفاظ سے بھی طلاق واقع نہیں ہوتی، باقی اس قسم کے شک و وہم کی طرف دھیان نہیں دینا چاہیے۔

الاشباہ والنظائر میں ہے:

"ومنها: شك هل طلق أم لا؟ لم یقع. شك أنه طلق واحدةً أو أکثر؟ بنی علی الأقل، کما ذکر الإسبیجابي."

(قاعدة: من شك هل فعل أم لا؟ص: 52،ط:العلمية)

فتاوی شامی میں ہے :

"(قوله: وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس و الإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي.و به ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق و لم يذكر لفظا لا صريحًا و لا كنايةً لايقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره، و كذا ما يفعله بعض سكان البوادي من أمرها بحلق شعرها لايقع به طلاق و إن نواه."

(کتاب الطلاق ج نمبر ۳ ص نمبر ۲۳۰،ایچ ایم سعید)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144504101907
تاریخ04-11-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں