بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میت کے غسل کے بعد نجاست خارج ہو تو کفن کے ساتھ پیمپر وغیرہ کا استعمال

سوال

میت کو غسل دینے کے بعد اگر اگلی یا پچھلی شرمگاہ سےنجاست نکلے تو کفن کے ساتھ پیمپریا اس جیسی کسی اور مانع چیز کا استعمال کیسا ہے؟ براہِ کرم جواب مرحمت فرماکر ممنون ہوں! 

جواب

میت کو غسل دینے کے بعد اگر نجاست خارج ہو تو اس نجاست کو دھو لیا جائے دوبارہ غسل دینے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی کفن کے ساتھ پیمپر یا اس جیسی کسی اور چیز کے استعمال کی ضرورت ہے۔

فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے:

"وإذا غسل المیت ثم خرج منه شيء لا یعاد الغسل ولا الوضوء عندنا ولكن يمسح ما سال ويكفن وفي كتاب الصلاة للحسن إذا سال منه شيء بعد الغسل قبل أن یکفن غسل ما سال وإن سال بعد ما کفن لا یغسل".

(كتاب الصلاة، فصل: 32: الجنائز، 3603، ط: زكريا)

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله، ولم يعد غسله) ؛ لأن الغسل عرفناه بالنص، وقد حصل مرة، وكذا لا تجب إعادة وضوئه؛ لأن الخارج منه من قبل أو دبر أو غيرهما ليس بحدث ؛ لأن الموت حدث كالخارج فلما لم يؤثر الموت في الوضوء، وهو موجود لم يؤثر الخارج".

(كتاب الجنائز، 2/ 186، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144504101778
تاریخ02-11-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں