بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تیمم کا طریقہ

سوال

مہربانی فرماکر تیمم کرنے کا طریقہ بتائیں ،اگر پانی نہ ہو تو تیمم کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے؟

جواب

اگر پانی موجود نہ ہو یا کسی شرعی عذر کی بنا پر پانی کے استعمال پر قدرت نہ ہو  تو شریعتِ مطہرہ نے پاکی کے لیے تیمم کا طریقہ تجویز فرمایا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے :

﴿فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ مِّنْهُ﴾(  المائدہ : 6)

ترجمہ: تم کو پانی نہ ملے تو تم پاک زمین سے تیمم کر لیا کرو یعنی اپنے چہروں اور ہاتھوں پر ہاتھ اس زمین (کی جنس)  پر  سے (مار کر) پھیر لیا کرو"۔

تیمم کا طریقہ:

اولاً نیت کر لیں،  پھر پاک مٹی پر دونوں ہاتھ مار کر جھاڑ لیں، پھر پورے  چہرے پر ایک مرتبہ اس طرح پھیریں کہ کوئی جگہ  باقی نہ رہے، پھر دوسری مرتبہ اسی طرح زمین پر  ہاتھ ماریں اور  دونوں ہاتھوں پر کہنیوں سمیت اس طرح  ہاتھ پھیریں کہ کوئی جگہ باقی نہ رہے اور  انگلیوں کے درمیان بھی  خلال  کریں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

‌"وكيفية ‌التيمم: أن يضرب يديه على الأرض يقبل بهما ويدبر ثم يرفعهما وينفض. كذا في التبيين بقدر ما يتناثر التراب. كذا في الهداية ويمسح بهما وجهه بحيث لا يبقى منه شيء ثم يضرب يديه على الأرض كذلك ويمسح بهما ذراعيه إلى المرفقين كذا في التبيين قال مشايخنا: ويمسح بأربع أصابع يده اليسرى ظاهر يده اليمنى من رءوس الأصابع إلى المرفقين ثم يمسح بكفه اليسرى باطن يده اليمنى إلى الرسغ ويمر باطن إبهامه اليسرى على ظاهر إبهامه اليمنى باليد اليسرى كذلك وهو الأحوط، كذا في محيط السرخسي وهكذا في البدائع."

(كتاب الطهارة، ج:١، ص:٣٠، ط:دار الفكر)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144504101683
تاریخ01-11-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں