بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ کے لیے نئے نکاح نامے میں بیوگی کے متعلق نہ لکھوانے کا حکم

سوال

ایک لڑکی کی شادی ہوئی، لیکن اسے شناختی کارڈ میں اندراج کرانے کا وقت نہیں ملا، چار سال بعد وہ بیوہ ہوگئی،عدت پوری کرنے کے بعد اب دوبارہ نکاح کرنا ہے،اس کے سابقہ سسرال والے اسے ڈیتھ سرٹیفکیٹ نہیں دے رہے،اب چوں کہ شناختی کارڈ میں وہ کنواری ہی ہے، تو کیا دوبارہ نکاح میں اگر بیوہ نہ لکھوایا جائے تو کوئی حرج تو نہیں ؟

جواب

نکاح نامہ میں چوں کہ دُلہن کی ازدواجی حیثیت کے متعلق ایک باقاعدہ شق موجود ہے جس کے اندر یہ سوال درج ہوتا ہے کہ ’’آیا دلہن کنواری ہے،یا بیوہ ہے یا مطلقہ‘‘،اس لیے اگر اس شق کو پُر کرنااختیاری ہوتا ہے،تب تو اسے پُر نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے،لیکن اس صورت میں بھی نئے شوہر کو اس بات سے لاعلم رکھنااور غلط بیانی کرنادرست نہیں ہے،سسرال والوں کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی کاپی نہ دینادرست نہیں ہے،بلکہ بیوی کا حق ہےجوان کو ملناچاہیے،اور اگر وہ باوجود مطالبہ کے نہیں دیتے تو نکاح نامہ کے مذکورہ خانہ میں اندراج کے لیے کسی  اہلِ قانون سے مشورہ کیاجائے۔

تبیین الحقائق  میں ہے:

"وأما بيان نفس العيب فلا بد منه بأن يبين العيب والثمن من غير أن يبين أنه اشتراه سليما ثم حدث به العيب عنده؛ لأن بيان ما فيه من العيب واجب شرعا لقوله صلى الله عليه وسلم:من ‌غشنا فليس منا، فلا يجوز إخفاؤه."

(ص:٧٨،ج:٤،کتاب البیوع،باب التولية،ط:دار الكتاب الإسلامي)

الموسوعة الفقهية الكويتية  میں ہے:

"اتفق الفقهاء على أن ‌الغش ‌حرام سواء أكان بالقول أم بالفعل، وسواء أكان بكتمان العيب في المعقود عليه أو الثمن أم بالكذب والخديعة، وسواء أكان في المعاملات أم في غيرها من المشورة والنصيحة."

(ص:٢١٩،ج:٣١،الغش،ط:وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144504101672
تاریخ01-11-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں