بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ناخن کا پانی کسی شخص پر چھڑکنے کا حکم

سوال

کہا جاتا ہے کہ ناخن کا پانی کسی شخص پر چھڑکناگناہ ہے کیا ایسا ہے ؟

جواب

اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، ویسے ہی عوام میں مشہور ہےحقیقت حال سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ البتہ بغیر کسی وجہ کے ناخن کا پانی یا ایسے ہی پانی کسی پر پھینکنامسلمان کو تکلیف دینے کی وجہ سے گناہ ہے۔

حدیث شریف میں ہے:

"حدثنا مسدد، حدثنا يحيي، عن اسماعيل بن أبي خالد، حدثنا عامر، قال:أتى رجل عبد الله بن عمرو وعنده القوم حتى جلس عنده، فقال: أخبرني بشيء سمعته من رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فقال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده، والمهاجر من هجر ما نهى الله عنه".

( سنن أبي داود، باب في الهجرة هل انقطعت؟، ج: ۴، صفحہ: ۱۳۸، رقم الحدیث: ۲۴۸۱، ط:  دار الرسالة العالمية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144504101621
تاریخ01-11-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں