بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دوکان کرایہ پر لینے کی صورت میں چھت کو استعمال کرنے کا حکم

سوال

دوکان کرایہ پر لی ہے،  تو اس کی چھت جس پر تعمیر نہ ہو ، مالک کی ہوگی یا کرایہ دار کی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر  دوکان دار نےصرف دوکان کرایہ پر لی ہےچھت کرایہ پر نہیں لی، تو وہ صرف دوکان ہی کو استعمال کرسکتا ہے، چھت مالکِ دوکان کی ہے، اور وہی استعمال کرسکتا ہے۔

البناية شرح الهداية  میں ہے:

"عقد على منفعة معلومة بعوض معلوم إلى مدة معلومة".

(کتاب الاجارات، تعریف الاجارۃ، ج:10، ص:221، ط:دارالکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144504101615
تاریخ01-11-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں