بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طوطے کو پنجرے میں بند کرنے کا حکم

سوال

طوطے کو پنجرے میں قید کرنا کیسا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر طوطوں اور دیگر پرندوں کی خوراک اور ضروریات وغیرہ کا خیال رکھا جاتا ہو تو انہیں پالنا اورپنجرے میں قید کرنا درست ہے، البتہ ایسے  پرندے کو اڑانےکامشغلہ بنانا،ہر وقت ان ہی کے ساتھ شوقیہ مصروف رہنا اور ان کو آپس میں لڑانادرست نہیں ہے۔ 

فتح الباري لابن حجر العسقلانی میں ہے:

"وفيه جواز تكنية من لم يولد له ... وجواز إمساك الطير في القفص ونحوه وقص جناح الطير إذ لا يخلو حال طير أبي عمير من واحد منهما".

(قوله باب الكنية للصبي وقبل أن يولد للرجل، ج:10، ص:584، ط:دارالمعرفۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144504101613
تاریخ01-11-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں