میت کی بیوہ دو بیٹیوں، دو بھائیوں اور چھ بہنوں میں وراثت کی تقسیم
سوال
ایک شخص کا انتقال ہوا، ورثاء میں ایک بیوہ، 2 بیٹیاں، 2بھائی اور6بہنیں ہیں، ان میں وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟اس کے علاوہ بھی وراثت میں کوئی شامل ہوگا؟ ماں باپ نانا نانی دادا دادی کوئی نہیں ہیں۔
جواب
صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا طریقہ یہ ہےکہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات ادا کرنے کے بعد ، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہوتو کل مال سے اس قرض کو ادا کرنے کے بعد ، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو کل مال کے ایک تہائی حصہ میں سے اسے نافذ کرنے کے بعد باقی تمام ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو 48حِصّوں میں تقسیم کرکے مرحوم کی بیوہ کو 6 حِصّے، ہر ایک بیٹی کو 16 حِصّے، ہر ایک بھائی کو 2 حِصّے، ہر ایک بہن کو ایک حِصّہ ملے گا۔
صورتِ تقسیم یہ ہوگی:
میت:24 / 48
| بیوہ | بیٹی | بیٹی | بھائی | بھائی | بہن | بہن | بہن | بہن | بہن | بہن |
| 3 | 16 | 5 | ||||||||
| 6 | 16 | 16 | 2 | 2 | 1 | 1 | 1 | 1 | 1 | 1 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے 100 فیصد میں سے 12.5 فیصد مرحوم کی بیوہ کو، 33.33 فیصد مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو، 4.16 فیصد مرحوم کے ہر ایک بھائی کو اور 2.08 فیصد مرحوم کی ہر ایک بہن کو ملے گا۔
فقط واللہ أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

