بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دوارانِ طواف اضطباع ختم کرنے کاحکم

سوال

دوران طواف پہلے تین چکر رمل کرنا ہوتا ہے، پھر عام چال، لیکن مجھ سے  ہوایہ یوں کہ رمل  توکرکے میں نے مکمل کرلیا ،مگر ساتھ ہی    بھولے سے اضطباع بھی ختم کردیا، کیا میرے اس عمل سے  عمرہ کے عمل پر اثر پڑےگا؟

جواب

واضح رہے کہ طواف کے دوران  اضطباع   کا عمل ایک سنت  عمل ہے،اور سنن کے لیے عام قاعدہ یہ ہے کہ اس کے چھوٹ جانے سے کوئی دم  یا صدقہ لازم نہیں ہوتا،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کو چاہیے تھا کہ وہ طواف کے سارے چکر اضطباع کے ساتھ پورے کرتا ، لیکن اگر سائل سے طواف کے چند چکروں میں اضطباع   رہ گیاتو شرعاً اس پر کوئی دم لازم نہیں ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"واعلم أن ‌الاضطباع ‌سنة ‌في ‌جميع ‌أشواط ‌الطواف كما صرح به ابن الضياء."

(ج:2، ص: 495، ط: سعید)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144504101445
تاریخ30-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں