بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر نے اپنی بیگم کو ایک تصویر واٹس ایپ کی جس میں لکھا تھا

سوال

میں نے اپنی بیگم کو ایک تصویر واٹس ایپ کی، جس میں لکھا تھا" میں تم کو طلاق دیتا ہوں "،اس تصویر میں نہ تو بیگم کا کوئی نام تھا نہ کچھ اور،  نہ طلاق دینے کی کوئی نیت تھی ،ایسی تصویر بھیجنےسے طلاق ہو جاتی ہے؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں  جب شوہر نے اپنی بیوی کو واٹس ایپ پر تصویر بھیجی ہے، اور شوہر کو معلوم بھی تھا کہ اس میں یہ جملہ لکھا ہوا ہے کہ "میں تم کو طلاق دیتا ہوں"، اس کے باوجود اس نے بھیج دی، تو اس سے طلاق واقع ہوگئی،اگر چہ طلاق کی نیت نہیں تھی۔البتہ جتنی دفعہ  یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے، اتنی ہی طلاق واقع ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے :

" وغير المرسومة أن لايكون مصدرًا ومعنونًا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لايمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لايقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينةً لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومةً يقع الطلاق نوى أو لم ينو، ثم المرسومة لاتخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة."

(کتاب الطلاق،مطلب في الطلاق بالكتابة،ج:3،ص: 246، ط: سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"رجل استكتب من رجل آخر إلى امرأته كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه وطواه وختم وكتب في عنوانه وبعث به إلى امرأته فأتاها الكتاب وأقر الزوج أنه كتابه فإن الطلاق يقع عليها."

 (کتاب الطلاق، الباب الثاني ، الفصل السابع،ج:1، ص: 379، ط: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144504101412
تاریخ30-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں