بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایرانی مصنوعات کے کھانے کا حکم

سوال

 ایرانی کھجور چاکلیٹ بسکٹس کھانے کا کیا حکم ہے اور ایرانی پروڈکٹس کے بارے میں جو مشھور ہے کہ استعمال نہیں کرنی چاہئیے ،کیونکہ شیعہ اس میں کچھ گندی چیز ملاتے ہیں تو کیا یہ صحیح بات ہے؟

جواب

کھجور ایک پھل ہے اور تمام پھل شریعت میں حلال ہیں، چاکلیٹ، بسکٹ میں علاوہ انڈہ کے عام طور پر جانوروں کے اجزاء شامل نہیں کئے جاتے  ،لہذا مطلقا صرف ایران کی مصنوعات ہونے کی بناء پر ان پروڈکٹس کو ناجائز نہیں کہا جاسکتا۔

جہاں تک گندی اشیاء ملانے کی بات ہے، اگر اس پر کوئی معتبر ثبوت ہے تو اس کو استعمال کرنا جائز نہیں ہوگا، باقی محض سنی سنائی باتوں پر ناجائز کہنا درست نہیں۔ مخصوص پروڈکٹ کی حلال سرٹیفکیشن سے متعلق معلومات کے لئے مندرجہ ذیل لنک پر جاکر رابطہ کیا جاسکتا ہے:

https://www.icricinternational.org/halal/ 

یہ ادارہ او آئی سی( جو تمام مسلمان ممالک کا متفقہ پلیٹ فارم ہے)  کا حلال معیار استعمال کرتا ہے اور اس معیار کی شرائط کے اوپر سرٹیفائیڈ ہونے والی تمام اشیاء حلال ہی تصور کی جاتی ہیں۔

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144504101315
تاریخ29-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں