بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دودھ والی چائے میں خالص دودھ کے ساتھ پاوڈر دودھ ملاوٹ کرنا

سوال

ہماراہوٹل ہے ہم اس میں چائے بنانے کے لیے باہردکان سے دودھ لیتے ہیں ، اوراتنی ہی مقدارمیں اس کے ساتھ پاوڈر /خشک دودھ ملاتےہیں ،اس سے ذائقہ اچھابنتاہے ،اوررنگ  بھی خوب صورت آتاہے ، لیکن ہم یہ معلوم کرناچاہتے ہیں کہ ایساکرناجائز ہے یانہیں ؟اس میں کوئی مسئلہ تونہیں ہے ؟

نوٹ : ہمارے گاہکوں کومعلوم ہوتاہے ( خودسے پتہ ہے ) کہ ہماری چائے کے دودھ میں پاوڈربھی ملاہواہے۔

جواب

چائے کے ہوٹل کےکام میں دودھ میں پانی یا خشک دودھ ملانے کا یہ مطلب ہے کہ چائے خالص دودھ کی بجائے ملاوٹ والے دودھ کی بناکر دی جائے ،  اگر گاہک کے علم میں ہے کہ پانی یاخشک دودھ ملے دودھ کی چائے تیار کی جاتی ہے تو کوئی حرج نہیں، لیکن اسے خالص دودھ پتی کہہ کر فروخت کرنا دھوکہ دہی میں آنے کی وجہ سے ناجائزہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے :

"‌لا ‌يحل ‌كتمان ‌العيب ‌في ‌مبيع ‌أو ‌ثمن؛ لأن الغش حرام۔۔۔قوله؛ لأن الغش حرام) ذكر في البحر أو الباب بعد ذلك عن البزازية عن الفتاوى: إذا باع سلعة معيبة، عليه البيان وإن لم يبين قال بعض مشايخنا يفسق وترد شهادته".

  (کتاب البیوع ، باب خیار العیب،5 / 47، ط:سعید)

البحر الرائق میں ہے:

"كتمان عيب السلعة حرام وفي البزازية وفي الفتاوى إذا باع سلعة معيبة عليه البيان وإن لم يبين قال بعض مشايخنا يفسق وترد شهادته قال الصدر لا نأخذ به. اهـ. وقيده في الخلاصة بأن يعلم به."

(کتاب البیع، باب خيار العيب، ج: 6، ص:38،  ط: دار الكتاب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144504101285
تاریخ29-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں