بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سامعینِ خطبۂ جمعہ کے لئے کیا کیا آداب ہیں؟

سوال

سامعینِ خطبۂ جمعہ کے لئے کیا کیا آداب ہیں؟ 

جواب

جمعہ کی نماز کا خطبہ سننا واجب ہے، جب خطبہ شروع ہوجائے تو   خطبہ کو سننا واجب ہے، اور دو زانوں ہو کر تشہد والی شکل میں بیٹھنا مستحب ہے، خواہ امام کے نزدیک بیٹھے ہوں یا دورہوں، اگر دور ہونے کی وجہ سے آواز نہ آرہی ہو تب بھی خاموش بیٹھنا ضروری ہے اوراس دوران کوئی بھی ایسا کام کرنا جو خطبہ  سننے میں مخل ہو مکروہِ تحریمی ہے، کھانا پینا، بات چیت کرنا، چلناپھرنا، سلام کرنا یاسلام کاجواب دینا یاتسبیح پڑھنا یاکسی کو شرعی مسئلہ بتانا جیساکہ نماز میں ممنوع ہے، اسی طرح بوقتِ خطبہ بھی ممنوع ہے، خطبہ شروع ہوجانے کے بعد سنتیں یا نوافل پڑھنا ممنوع ہے، لیکن اگر سنت یا نفل پہلے سے پڑھ رہے تھے اس دوران خطبہ شروع ہوجائے تو راجح یہ ہے کہ سنتِ مؤ کدہ تو پوری کرلے اور نفل میں دو رکعت پر سلام پھیرلے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"أن كل ما حرم في الصلاة حرم في الخطبة؛ فيحرم أكل وشرب وكلام ولو تسبيحا أو رد سلام أو أمرا بمعروف إلا من الخطيب لأن الأمر بالمعروف منها بلا فرق بين قريب وبعيد في الأصح ولا يرد تحذير من خيف هلاكه لأنه يجب لحق آدمي وهو محتاج إليه، والإنصات لحقه تعالى، ومبناه على المسامحة والأصح أنه لا بأس، بأن يشير برأسه أو يده عند رؤية منكر، وكذا الاستماع لسائر الخطب كخطبة نكاح وختم وعيد على المعتمد." 

(كتاب الصلوة، باب الجمعة، ج:1، ص:545، ط:ايج ايم سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144504101178
تاریخ28-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں