بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کے پستان دبانے کا حکم

سوال

ایک شخص اپنی بیوی کے پستان کو دباتا ہے، دباتے دباتے اس میں دودھ نکل آتا ہے اور اس کے چہرے وغیرہ پر لگ جاتاہے۔ تو اس طرح کرنا کیسا ہے،اور شریعت اس کے بارے میں کیا رہنمائی کرتی ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ عمل جائز ہے البتہ اگر دبانا منہ سے ہو اور  دودھ منہ میں چلا جائے تو اسے تھوک دیا جائے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(مص من ثدي آدمية) ولو بكرا أو ميتة أو آيسة، وألحق بالمص الوجور والسعوط (في وقت مخصوص) هو (حولان ونصف عنده وحولان) فقط (عندهما وهو الأصح).......ولو بعد الفطاممحرم

وعليه الفتوى .......لأنه جزء آدمي والانتفاع به لغير ضرورة حرام على الصحيح شرح الوهبانية."

(کتاب الرضاع جلد 3 ص: 209۔211 ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144504100970
تاریخ25-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں