بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چوری کا مال بچانے کے لیے جھوٹی قسم کھانا

سوال

 اگر ایک بندہ چوری کا مال یا پیسے بچانے کےلیے اللہ کے نام کی جھوٹی قسم کھاتا ہے تو اس کا کفارہ کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کسی کا مال اس کی رضامندی کے بغیر کھانا ناجائز اور حرام ہے لہذا کسی کا مال چوری کرنا جائز نہیں ہے مالک کو لوٹانا لازمی ہے اور اگر چوری کے مال کو بچانے کے لیے جھوٹی قسم کھا لی ہےتو اس پر کفارہ لازم نہیں ہے،البتہ توبہ و استغفار لازم ہے اس لیے کہ   جھوٹی  قسم کھانا کبیرہ  گناہوں  میں  سے  شدید  ترین  گناہ  ہے،  جھوٹی  قسم  کا  مطلب یہ ہے کہ انسان اللہ رب العزت والقدرۃ  کا نام استعمال کرکے اور اللہ تعالیٰ کو گواہ بناکر جھوٹ کہتاہے، اگر کسی نے  نادانی میں  جھوٹی قسم کھالی تو  اس طرح کی قسم پر کفارہ تو نہیں ہے، البتہ سچی توبہ واستغفار لازم ہے،تاکہ  اللہ تعالیٰ کے عذاب و ناراضی  سے بچ جائے۔

مشکوۃ المصابیح میں ہے:

"عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه»."

(کتاب البیوع ، باب الغصب و العاریة جلد 2 ص: 889 ط: المکتب الإسلامي)

وفیہ ایضاً:

"وعن عبد الله بن عمرو عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الكبائر الإشراك بالله وعقوق الوالدين وقتل النفس واليمين الغموس»." 

(کتاب الإیمان ، باب الکبائر و علامات النفاق جلد 1 ص: 22 ط: المکتب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144504100969
تاریخ25-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں