بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رحمان اللہ نام رکھنے کا حکم

سوال

 لڑکے کا نام "رحمان اللہ" رکھنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ "رحمان" اللہ تعالیٰ کے ان خاص صفاتی ناموں میں سے ہے، جو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ خاص ہے، اور   "عبد" کی اضافت کےبغیریہ نام رکھنا شرعاً درست نہیں ہے، بلکہ جب بھی یہ نام رکھنا مقصود ہو تو  "عبد" کی اضافت کے ساتھ "عبدالرحمٰن" نام رکھا جائے؛ لہذاصورتِ مسئولہ میں بچے کا نام  "رحمان اللہ"  رکھنا شرعاً درست نہیں ہے یا تو "عبدالرحمن" نام رکھا جاۓ یا اور کوئی اچھا نام منتخب کرلیا جاۓ۔فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144504100928
تاریخ25-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں