بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

استاذ کا بچوں کی چیزیں سزا کے طور پر پھینکنے کا حکم

سوال

استاذ کابچوں کی چیزیں سزا  کے طور پر پھینکنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ استاذ کے لیے اپنے شاگرد اور طالب علم کی تربیت اور  تادیب کے لیے کچھ معمولی سزا دینا جائز ہے،  لیکن اس سلسلے میں اعتدال کی راہ اختیار کرنی چاہیے، نہ تو ہر وقت  سزا ہی دینی چاہیے اور نہ  ہی بالکل چھوٹ دینی چاہیے، جس  سے  طالب علم کی تربیت بھی ہوجائےاور سزا بھی حد سے تجاوز نہ کرے، صورتِ مسئولہ میں اگر  شاگرد کی کوئی ایسی چیز ہے، جس کو پھینکنے  کی صورت میں اس کے ضیاع کا اندیشہ ہو تو اس قسم کی سزا دینا جائز  نہیں ہے، خصوصًا جب بچہ نابالغ بھی ہو ،  بلکہ استاذ کو چاہیے کہ اس کے علاوہ کوئی اور مناسب سزا تجویز کرلے،اگر بچے کے پاس کوئی نامناسب چیز ہو تو اس کے سرپرست کو بلا کر ان کے حوالے کردیں ۔

صحیح بخاری میں ہے:

"باب التوثق ممن تخشى معرته، وقيد ابن عباس عكرمة على تعليم القرآن، والسنن والفرائض."

 (3/ 123،  کتاب الخصومات، ط:دار طوق النجاة)

الطبقات الكبرى  میں ہے:

"عن عكرمة قال: كان ابن عباس يجعل في رجلي الكبل يعلمني القرآن و يعلمني السنة."

(بقیة الطبقة الثانیة من التابعین،  عکرمة، ج:5، ص:219، ط:دارالکتب العلمیة۔بیروت)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144504100647
تاریخ23-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں