بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تلاوت قرآن کے دوران کھڑے ہو کر ہاتھ باندھنا کیسا ہے؟

سوال

تلاوت قرآن کے دوران کھڑے ہو کر ہاتھ باندھنا کیسا ہے، کیا نماز کے ساتھ تشبیہ تو نہیں؟

جواب

کھڑے ہوکر تلاوت کرتے ہوئے ہاتھ باندھنے میں(بشرطیکہ اسے لازمی،ضروری ، سنت ،مستحب ،اورموجب ثواب نہ سمجھاجائے) شرعاً کوئی قباحت نہیں، البتہ  تلاوت کلام پاک میں افضل یہ ہے کہ باوضو قبلہ رخ دو زانو   بیٹھ کرتلاوت کی جائے۔

"أسنى المطالب في شرح روض الطالب" میں ہے:

"و)ندب (‌أن ‌يجلس) للقراءة لأنه أقرب إلى التوقير (و) أن (يستقبل) القبلة لأنها أشرف الجهات ."

(أسنى المطالب في شرح روض الطالب، ج:١، ص:٦٣، ط: دار الكتاب الإسلامي)

"مفاتيح للتعامل مع القرآن" ميں ہے:

"اختيار الجلسة المناسبة والحالة الخاصة والهيئة الصالحة لأن يتلقى عن الله .. وهى التى تتجلى فيها عبوديته لله، ويبرز فيها تذلّله وخضوعه، وأفضل الجلسات لمريد التلاوة: أن ‌يستقبل القبلة جالسا جلسة التشهد للصلاة وهى أظهر الجلسات عبودية."

(مفاتيح للتعامل مع القرآن، ‌‌من آداب تلاوة القرآن،  ص:٤١، ط: دار القلم)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144504100507
تاریخ21-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں