بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وضوء کے بغیر ذکر کرنے کا حکم

سوال

رات کو یا صبح یا دوپہر میں  کبھی جب بندہ نیند یا تھکاوٹ کی بناء پر لیٹ جائے،اور کمرے میں والد وغیرہ بھی لیٹے ہوئے ہوں،اور بندہ کی ریح خارج ہوتی رہتی ہے،تو کیا ایسی صورت میں بندہ ذکر اذکار کرسکتا ہے ؟اگر اسی حالت میں  بندہ ذکر اذکار یا درود شریف وغیرہ پڑھے تو کیا گناہ ملے گا؟

جواب

واضح رہے کہ وضوء کے بغیر بھی ذکر اذکار کرنا اور درود شریف پڑھنا جائز ہے،شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(ولا بأس) لحائض وجنب (بقراءة أدعية ومسها وحملها وذكر الله تعالى، وتسبيح)."

(كتاب الطهارة، باب الحيض ،ج: 1، ص: 293، ط: سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144504100503
تاریخ21-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں