بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسافر کے سفر کی/ٹھرنے کی مدت پندرہ دن سے بڑھ جانے کی صورت میں نماز کا حکم

سوال

اگر ارادہ 15 دن سے کم رہنے کا ہو لیکن قیام 15 دن سے زیادہ کا ہو جائے تو اس صورت میں قصر کا کیا حکم ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر کسی شخص کی پندرہ دن سے کم سفر/ ٹھہرنے کی نیت ہو اور پندرہ دن سے زیادہ وقت ہوجائے تو اس صورت میں (سفر کے) پندرہ دن سے جتنے دن بھی اوپر ہوں گے ان میں قصر نماز ہی ادا کرے گا۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر، كذا في الهداية".

(كتاب الصلوة، الباب الخامس عشر: في صلاة المسافر، ج:1، ص:139، ط: رشيدية)

البنایۃ شرح ہدایۃ میں ہے:

"‌قال: و‌‌فرض المسافر في الرباعية ركعتان لا يزيد عليهما..... ولا ‌يزال ‌على ‌حكم ‌السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر".

(‌‌‌‌كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ج:3، ص:17، ط:دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144504100370
تاریخ19-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں