بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک کنسٹرکشن کمپنی میں انویسٹ کا حکم

سوال

 آج کل مروت نام  کی کمپنی  ہے، جن کا دعویٰ ہے کہ وہ کنسٹرکشن کا کام کرتے ہیں،وہ لوگوں سے 3 سال کی شرط پر کم ازکم ڈھائی لاکھ روپے اور زیادہ کی کوئی حد نہیں، رقم لیتے ہے ،یہ رقم جو شخص ان کی کمپنی میں جمع کرواتے ہیں، ان لوگوں کو اس  کا 20 فیصد  دے دیتاہے، (مطلب ڈھائی لاکھ روپے میں پچاس ہزار روپے)، پھر وہ  مروت کمپنی اس رقم کی انویسٹمنٹ پر  ماہانہ کبھی  40000  اور  کبھی  39000 روپے منافع دیتا ہے، (یہ رقم کا 16 فیصد بنتا ہےجو ایک جائز کاروبار میں عقلی طور پر ناممکن ہے)،  جس شخص کے کاروبار کا علم نہ ہو اور یہ بھی کنفرم نہ ہو کہ وہ زکوٰۃ دیتا ہے یا نہیں،  اس کے ساتھ اس طرح کی کاروباری شراکت داری جائز ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ کمپنی میں انویسٹ کرکے نفع حاصل کرنا کئی شرعی خرابیوں کی بناپر شرعًا  جائز  نہیں  ہے۔ فقط  واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144504100353
تاریخ19-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں