بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اللہ تعالیٰ کے لیے رسوائی کا لفظ استعمال کرنے کا حکم

سوال

ایک مشہور شاعر نے اپنے نظم میں ایک لفظ استعمال کیا ہے کیا اس طرح کے الفاظ استعمال کرنا کیسا ہے؟ وہ یہ ہے ساری دنیا ہی تماشائی ہے میرے مولا جو تیرے نام پہ لڑتے ہیں اگر ہارے تو اس میں تیری بھی تو رسوائی ہے میرےمولا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں  شاعر کا اس طرح "اگر ہارے تو اس میں تیری بھی تو رسوائی ہے میرےمولا" للہ تعالی کے  لیے "رسوائی " کا لفظ ا استعمال کرنا جائز  نہیں ہے،اسی طرح کے الفاظ کے استعمال اور آگے نقل کرنے سے اجتناب کرنا لازم ہے۔فقط وللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144504100263
تاریخ18-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں