بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مدینہ منورہ سے مکہ جانے کے لیے احرام باندھنا

سوال

 ہم پاکستان سے عمرہ کے لیے آئے ہیں۔اب تک الحمد للہ ہم نے 6 عمرےکرلیے ہیں جن میں سے ایک مدینہ طیبہ سے تھا۔لیکن ہمیں اچانک مدینہ طیبہ دوبارہ کسی سے ملنے آنا تھا اور اب دو دن بعد دوبارہ مکہ مکرمہ واپسی ہے تو کیا پھر احرام باندھیں گے؟جب کہ ہم نے ہفتہ دو ہفتہ بعد دوبارہ مدینہ طیبہ آنا ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ جاتے ہوئے میقات سے پہلے احرام باندھنا ضروری ہے،لہذا سائل اور اس کے ساتھ افراد کے لیے مکہ مکرمہ جانے کے لیے میقات   سے  پہلے احرام باندھ کر مکہ مکرمہ جانا ضروری ہے ، میقات سے احرام باندھے بغیر مکہ مکرمہ حدود حرم میں داخل ہونا درست نہیں ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وحرم تأخیر الإحرام عنها) کلّها (لمن) أي لآفاقي (قصد دخول مکة) یعني الحرم (ولو لحاجة) غیر الحج، أمّا لو قصد موضعاً من الحلّ کخلیص وجدة، حلّ له مجاوزته بلا إحرام.

(قوله: أي لآفاقي) أي ومن ألحق به کالحرمي والحلي إذا خرجا إلی المیقات کما یأتي، فتقییده بالآفاقي للاحتراز عما لو بقیا في مکانهما، فلایحرم، کما یأتي".

( کتاب الحج، مطلب في المواقیت،2/ 477، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144504100209
تاریخ18-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں