بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زونیشہ اور کسوا نام رکھنے کا حکم

سوال

 زونیشہ یا کسوا نام  رکھنا ٹھیک ہے؟

جواب

"زونیشہ " نام کسی لغت میں  نہ مل سکا ،جب کہ "کسوا" کاف کے زیر یا زبر کے ساتھ کوئی نام نہیں ہے،بلکہ اس کا درست تلفظ "كِسْوۃ"یا "كُسْوۃ"ہے ،جس کے معنی"کپڑے "اور"لباس "کے ہیں، لہذا مذکورہ دونوں ناموں کے علاوہ کوئی اور   اچھے معنیٰ والا  نام رکھ لیا جائے،نیز  بہتر یہ ہے کہ حضور ﷺ کی صاحبزادیوں ، ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن یا نیک خواتین  کے ناموں میں سے کسی نام کا انتخاب کیا جائے۔
لسان العرب میں ہے:

"الكِسْوةُ والكُسْوةُ: اللباس، واحدة الكُسا؛ قال الليث: ولها معانٍ مختلفة.
يقال: كَسَوْت فلاناً أَكْسُوه كِسْوةً إِذا أَلبسته ثوباً أَو ثياباً فاكْتَسى.واكتَسى فلان إِذا لبَس الكِسُوْة... ويقال: اكتَسَتِ الأَرض بالنبات إِذا تغطَّت به.والكُسا: جمع الكُسوة."

(و- ي، فصل الكاف، 223/15، ط:دار صادر)

المعجم الوسیط میں ہے:

"(كسا) فلَانا ثوبا كسوا أعطَاهُ إِيَّاه وَألبسهُ إِيَّاه.

(كسي) كسا لبس الْكسْوَة فَهُوَ كاس، (اكتسى) لبس الْكسْوَة وَالْأَرْض بالنبات تغطت بِهِ.

(تُكْسَى) بالكساء لبسه، (استكساه) طلب مِنْهُ كسْوَة، (الكساء) اللبَاس (ج) أكسية، (الْكسْوَة) الثَّوْب يسْتَتر بِهِ ويتحلى (ج) كسا."

(باب الكاف، 788/2، ط:مجمع اللغة العربية بالقاهرة)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144503103057
تاریخ15-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں