بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رتل نام رکھنے کا حکم

سوال

کیا میں اپنی بیٹی کا نام Retal رکھ سکتی ہوں؟ اس کا معنی کیا ہے؟

جواب

اس لفظ کو اگر "طاء" کے ساتھ لیا جائے تو رطل عربی زبان میں ایک پیمانہ کا نام ہے، اور اگر "تاء" کے ساتھ لیا جائے تو اس کا معنیٰ ہوتا ہے: کسی چیز کو ترتیب دینا۔

مذکورہ نام بچی کے نام کے لیے عمدہ ناموں میں سے نہیں ہے، ناموں میں بہتر یہ ہوتا ہے کہ صحابیات کے ناموں پر نام رکھے جائیں، یا ایسے نام رکھے جائیں جن کا معنیٰ اچھا ہو۔

جمہرۃ اللغۃ میں ہے:

"‌رتل: أخبرني المنذري عن أبي العباس أنه قال في قوله عز وجل: {عليه ورتل القرءان} (المزمل: 4) ما أعلم الترتيل إلا التحقيق والتمكين أراد في قراءة القرآن.

وقال الليث: الرتل تنسيق الشيء، وثغر ‌رتل حسن التنضيد، ورتلت الكلام ترتيلا أي تمهلت فيه وأحسنت تأليفه، وهو يترتل في كلامه ويترسل."

(‌‌(أَبْوَاب) التَّاء وَالرَّاء)، جلد:14، صفحہ: 191، طبع: دار احیاء التراث العربی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144503103048
تاریخ15-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں