بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نمازِِ عشاء کا وقت مسنون

سوال

مہربانی کر کے یہ  بتائیے کہ رات: 12بجے کے بعد عشا کی نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ اور اگر پڑھ سکتے ہیں تو کس ٹائم تک پڑھ سکتے ہیں؟ اور کس وقت مکروہ ہے؟

جواب

واضح رہے کہ12 بجےکے بعد بھی عشاء کی نماز پڑھ سکتے ہے،اور عشاء کا وقت داخل ہونے سےطلوعِ فجر (یعنی صبح صادق)تک  تمام وقت عشاء کی نمازکا وقت ہے، اگر کسی شخص نے عشاء کی نماز نہیں پڑھی،اور سوگیا، پھر طلوعِ فجر سے پہلے پہلے عشاء کی نماز پڑھ لے تو وہ نمازادا شمارہوگی ،قضاء شمار نہیں ہوگی،البتہ  شدید عذر کے بغیر آدھی رات سے زیادہ تاخیر کرنا مکروہ ہے، اس لیے آدھی رات سے پہلے عشاء کی نماز پڑھ لیا جائے؛ تاکہ کراہت نہ ہو۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) ‌وقت (‌العشاء والوتر منه إلى الصبح) ."

(كتاب الصلاة، ج:1 ص:361 ط: سعید)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وكذا لم يؤخر العشاء إلى ما بعد ثلث الليل وإن كان بعده ‌وقت ‌العشاء بالإجماع."

(كتاب الصلاة، فصل شرائط أركان الصلاة، ج:1 ص:124 ط: دار الکتب العلمیة)

اللباب میں ہے:

"وأول ‌وقت ‌العشاء إذا غاب الشفق، وآخر وقتها ما لم يطلع الفجر."

(كتاب الصلاة، ج:1 ص:57 ط: المکتبة العلمیة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503103047
تاریخ15-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں