بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صدقہ کی نیت سے دوستوں کی دعوت کرنا

سوال

کیا صدقہ کا گوشت رشتہ دار اور دوست احباب کو کھلایا جا سکتا ہے ؟بطور دعوت۔

جواب

واضح رہے کہ صدقات واجبہ یعنی زکات، فطرانہ، نذر وغیرہ کا مصرف تو مستحقین زکات  افرادہیں ،  جب کہ نفلی صدقہ (یعنی انسان جو محض ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے) مستحقینِ  زکات افراد کو دینا شرعًا ضروری نہیں، لہذا صورتِ  مسئولہ میں  نفلی صدقہ  کا گوشت دوستوں  کھلایا  جاسکتاہے،  البتہ اگر واجب صدقہ کا  گوشت   صرف زکات کے مستحقین افراد کو کھلایا جاسکتاہے۔یہ حکم صدقہ کرنے والے کے لیے ہے، لیکن اگر کسی مستحق کو صدقہ واجبہ کا گوشت ملا ہو تو اس کے  مالک بننے کے بعد وہ گوشت صدقہ کا حکم نہیں رکھتا ہے، بلکہ اس گوشت کو کسی کو بھی کھلایا جا سکتا ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے: 

"وأما صدقة التطوع فيجوز صرفها إلى الغني؛ لأنها تجري مجرى الهبة."

( كتاب الزكاة، فصل الذي يرجع إلى المؤدى إليه، ٢ / ٤٧، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503103025
تاریخ15-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں