بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نابالغ کی قبر پر تلقین کاحکم

سوال

نابالغ کی تلقین؟

جواب

سوال نامکمل ہے ، اگر مقصود یہ پوچھناہے کہ نابالغ کی قبر پر تلقین  کا کیا حکم ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ صحیح قول کے مطابقنابالغ سے  چوں کہ قبر میں سوال نہیں کیا جائے گا؛ اس لیے  نابالغ   كی قبر  پرتلقین کی ضرورت نہیں ہے(اور اگر سوال سے مقصود کچھ اورہو تو وہ لکھ کر دوبارہ سوال کیجیے)

النہر الفائق میں ہے:

"ومن لم يسأل ينبغي أن لايلقن، وقد اختلف في الصبي فجزم المصنف في (العمدة) بأنه يسأل، والأصح: أنه لايسأل، وكذلك النبي، وخص ذلك في (المسايرة) لابن الهمام بأطفال المؤمنين، فقال: الأصح: أن الأنبياء لايسألون ولا أطفال المؤمنين."

(النهر الفائق: كتاب الصلاة، باب صلاة الجنائز (1/ 381)،ط.  دار الكتب العلمية)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503102963
تاریخ15-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں