بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض لینے کا طریقہ

سوال

میں نے پانچ لاکھ روپے کا لون(قرض)لینا ہے، کیا طریقۂ کار ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں   کسی ضرورت  کے تحت قرضہ لے سکتے ہیں  ، البتہ سودی قرضہ ( چاہے کسی ادارے ، یا کسی فرد سے ہو )  لینا حرام ہے اس سے  سخت اجتناب کیا جائے ۔

روضۃ العلماء میں ہے:

"و أما القرض فإنه لايطلبه الإنسان إلا عند الحاجة، فلذلك فضل القرض على الصدقة."

(الباب الرابع و الثمانون، فضل قضاء الدین، ص: 504، ط: دار الکتب العلمیہ)

حدیث شریف میں ہے:

"عن فضالة بن عبيد صاحب النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: " كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا".

(أخرجه البيهقي في الكبرى في، باب كل قرض جر منفعة فهو ربا, 5/ 571، رقم: 10933، ط. دار الكتب العلمية، بيروت)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503102928
تاریخ15-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں