بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو بیٹی کہنے کا حکم

سوال

کیا بیوی کو بیٹی بول سکتے ہیں؟

جواب

"بیوی" کو "بیٹی "کہنا  مکروہ ہے،اور بیہودہ حرکت ہے، اس سے احتراز کرنا لازم ہے۔

"کذا فی الشامی: ''ويكره قوله: أنت أمي ويا ابنتي ويا أختي ونحوه."

( باب الظهار، (3/470) ط: سعید)

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ نے لکھا ہے : 

’’بیوی کو بیٹا کہنا لغو اور بیہودہ حرکت ہے، مگر اس سے نکاح نہیں ٹوٹا۔‘‘

(آپ کے مسائل اور ان کا حل، باب الظہار (6/670)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503102848
تاریخ14-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں