بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک تیمم سے کتنی نمازیں پڑھ سکتے ہیں؟

سوال

ایک تیمم سے کتنی نمازیں پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ  میں پانی کی عدمِ موجودگی یا قدرت نہ ہونے  کی بنا پر کیے گئے تیمم جب تک باقی رہے اس سے تمام نمازیں پڑھی جاسکتی ہیں، چاہے  وہ  فرض نمازیں ہوں   یانفل نمازیں ہوں، البتہ جن چیزوں سے وضو ٹوٹتا ہے، مثلاً جسم سے پیپ، خون وغیرہ، یا قضائے حاجت کرنے سے تیمم ٹوٹنے کے  بعد  مزید وقتی یا غیروقتی نمازیں نہیں پڑھ سکتے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وجاز قبل الوقت ولأكثر من فرض، و جاز لغيره كالنفل؛ لأنه بدل مطلق عندنا لا ضروري)قوله: وجاز قبل الوقت أقول: بل هو مندوب كما هو صريح عبارة البحر، وقل من صرح به رملي قوله: وجاز لغيره أي لغير الفرض قوله: لأنه بدل إلخ أي هو عندنا بدل مطلق عند عدم الماء ويرتفع به الحدث إلى وقت وجود الماء، وليس ببدل ضروري ومبيح مع قيام الحدث حقيقة كما قال الشافعي، فلايجوز قبل الوقت و لايصلي به أكثر من فرض عنده."

(کتاب الطهارۃ، باب التیمم، وسننه، ج:١، ص:٢٤١، ط:دار الفكر بيروت)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503102811
تاریخ14-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں