بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

’’جتنے نیک، متقی لوگ گزرے ہیں وہ سب سوئے خاتمہ کے خوف سے لرز اٹھتے تھے‘‘ کی تخریج؟

سوال

کیا یہ امام ابن قیم رحمہ اللہ کا قول ہے ؟رہنمائی فرمائیں:

جتنے نیک اور متقی لوگ گزرے ہیں وہ سب سوئے خاتمہ کے خوف سے لرز اٹھتے تھے،اور یہاں یہ حال ہے کہ گناہگار اور ظالم بھی حسن خاتمہ کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔

جواب

امام ابن قیم رحمہ اللہ کا  مذکورہ قول بعینہ  ان الفاظ کے ساتھ نہیں ملا، البتہ اس کے قریب قریب مفہوم کا یہ قول ملا، ملاحظہ کیجیے:

"خاتمہ کے خوف نے پرہیزگاروں کی کمر توڑ کر رکھ دی، اور گناہگار اور ظالموں نے تو گویا (اللہ سے)  امن وحفاظت کا دستخظ لے کر رکھا ہے"۔

"ولقد قطع خوف الخاتمة ظهور المتقين، وكأن المسيئين الظالمين قد أخذوا توقيعا بالأمان {أم لكم أيمان علينا بالغة إلى يوم القيامة إن لكم لما تحكمون - سلهم أيهم بذلك زعيم}".

( الجواب الكافي لمن سأل عن الدواء الشافي : فصل: المعاصي تعمي القلوب (ص:92)، ط. دار المعرفة ، المغرب، الطبعة الأولى: 1418هـ =1997م)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503102764
تاریخ14-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں