بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نمازِ جمعہ میں قنوت نازلہ پڑھنا

سوال

فلسطين کے حالات خراب ہیں تو کیا فلسطین‌کے‌ علاوہ دوسرے ملک میں امام‌ابو‌حنیفہ کی تقلید کرنے والے علاقہ میں جمعہ کی‌ نماز‌ میں امام صاحب قنوتِ نازلہ پڑھ سکتے ہیں؟ اور جمعہ کی نماز کے بعد‌ متصلا جہراً اجتماعی دعا کر سکتے ہیں ؟ 

جواب

واضح رہے کہ احناف کے نزدیک قنوتِ نازلہ  مسلمانوں پر حالت آنے کی وجہ سےصرف فجر کی نماز میں پڑھنا مسنون و مشروع ہے،اس کا طریقہ یہ ہے کہ نمازِ فجر میں دوسری رکعت کے سجدہ میں جانے سے پہلے ہاتھ چھوڑ کر امام دعا کرائے،اور مقتدی آہستہ آواز میں اس پرآمین کہے، نمازِ جمعہ یا کسی اور نماز میں قنوتِ نازلہ پڑھنے کی اجازت نہیں ہے،البتہ خطبہ میں یا نماز کے بعد اجتماعی دعا میں قنوتِ نازلہ پڑھی جاسکتی ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله وقيل في الكل) قد علمت أن هذا ‌لم ‌يقل ‌به ‌إلا ‌الشافعي، وعزاه في البحر إلى جمهور أهل الحديث، فكان ينبغي عزوه إليهم لئلا يوهم أنه قول في المذهب."

(كتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل، ج:2 ص:11 ط: سعید)

بذل المجہود میں ہے:

"وهو صريح في أن قنوت النازلة عندنا مخصص بصلاة الفجر دون غيرها من الصلوات الجهرية أو السرية."

(كتاب الصلاة، باب القنوت في الصلوات، ج:6 ص:145 ط: مرکز الشیخ إبی الحسن الندوی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503102714
تاریخ13-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں