بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

’’دعاءِ تعلق‘‘ کے نام سے پڑھے جانے والی دعاء درست نہیں

سوال

"  اللّٰهُمّ اجعل سيدنا محمّمد صلّي الله عليه وسلم روحا لذاتي، واجعلني علي غاية الثبات والتمكين وان تقويني يا الهي بالقوّة التي لا يختل لي معها نظام ترتيب بدن ولا عقل".

کیا یہ دعا پڑھ سکتے ہیں؟ درست ہے ؟

جواب

سوال میں مذکور دعاء  ماثور دعاؤں میں سے نہیں ہے، اس کی عبارت میں سقم بھی ہے اور   مذکورہ  دعاء میں"  اللّٰهُمّ اجعل سيدنا محمّد صلّي الله عليه وسلم روحا لذاتي"یعنی ’’اے اللہ   ہمارے آقامحمد صلی اللہ علیہ وسلم کو  میری ذات کے لیے روح بنا دے‘‘ والا جملہ شرعاً صحیح نہیں ہےلہٰذا اس دعا کو نہ پڑھا جائے،اور اس کی جگہ ماثور دعاؤں کی پابندی کی جائے۔

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503102578
تاریخ11-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں