بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مروجہ اسلامی بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھولنا

سوال

میزان بینک والے کہتے ہیں کہ ہمارا بینک سود سے پاک ہے، اس میں آپ پیسے رکھ کر حلال منافع کماسکتے  ہیں ، کیا یہ درست ہے؟

جواب

مروجہ بینکنگ نظام اسلامی اصولوں کے خلاف ہے، اور ان بینکوں میں سیونگ اکاؤنٹ میں رقم رکھوا کر اس پر نفع حاصل کرنا درست نہیں،  بلکہ سود میں شامل ہے۔لہذادیگر بینکوں کی طرح مروجہ اسلامی بینکوں  میں بھی سیونگ اکاؤنٹ میں رقم انویسمنٹ کرکے اس پر نفع حاصل کرناجائز نہیں ہے۔

 اللہ تعالی کا  ارشادہے:

"وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا." ﴿البقرة: ٢٧٥﴾

دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں:

"فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ." ﴿البقرة: ٢٧٩﴾

سنن  ابن  ماجہ میں ہے:

"عن عبد الله بن مسعود: أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - لعن آكل الربا وموكله وشاهديه وكاتبه."

 (کتاب التجارۃ، باب التغلیظ فی الربا، ج: 2 ص: 764 ط: دار الرسالة)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: كل قرض جرّ نفعًا حرام) أي إذا كان مشروطًا كما علم مما نقله عن البحر."

 (کتاب البیوع،فصل فی القرض، مطلب كل قرض جر نفعا حرام، ج : 5، ص : 166 ،ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503102505
تاریخ11-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں