بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کی رضامندی کے لیے مردانہ کپڑے پہننے کا حکم

سوال

اگر کوئی عورت  اپنے شوہر کی رضاکے لیے اس کے خاص کمرے میں مرد کا لباس پہنے ؟اس کا حکم کيا ہے ؟ جائز یا ناجائز؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں شوہر کو خوش کرنےکےخاطربیوی کا صرف شوہر کے سامنے مردانہ کپڑے پہننے کی گنجائش ہے، البتہ احتیاط کرنا زیادہ بہتر ہے۔ 

فتاویٰ شامی میں ہے:

"ومنه المنماص المنقاش اهـ ولعله محمول على ما إذا فعلته لتتزين للأجانب، وإلا فلو كان في وجهها شعر ينفر زوجها عنها بسببه، ففي تحريم إزالته بعد، لأن الزينة للنساء مطلوبة للتحسين، إلا أن يحمل على ما لا ضرورة إليه".

(کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی النظر والمس، ج:6، ص:373، ط:ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144503102445
تاریخ10-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں