بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 جُمادى الأولى 1448ھ 18 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خریدی ہوئی چیز کا دکاندار کے پاس ہلاک ہوجانا

سوال

اگر گاہک کے کپڑے جل گئے پوری دکان سمیت تو کیا گاہک اپنے پیسوں کا مطالبہ کرسکتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  اگر دکاندار نے کپڑے خریدار کے حوالے کر دیے تھے اور خریدار نے اپنے کپڑوں  پر قبضہ کرنے کے بعد وہ کپڑے دکاندار کے پاس چھوڑ دیے تھے، تو وہ کپڑے خریدار کی امانت تھے، لہذا اگر دکاندار کی طرف سے غفلت نہیں تھی، تو خریدار نقصان کا مطالبہ نہیں کر سکتا، اور اگر ابھی کپڑے خریدار کے حوالے نہیں کیے گئے تھے، اس سے پہلے وہ آگ لگنے سے جل گئے تو اس صورت میں خریدار کو اس کی مکمل رقم لوٹانا دکاندار پر لازم ہوگا۔

تبین الحقائق میں ہے:

"قال رحمه الله (لا بيع المنقول) أي لا يجوز بيع المنقول قبل القبض لما روينا ولقوله عليه الصلاة والسلام «إذا ابتعت طعاما فلا تبعه حتى تستوفيه» رواه مسلم وأحمد ولأن ‌فيه ‌غرر ‌انفساخ ‌العقد على اعتبار الهلاك قبل القبض؛ لأنه إذا هلك المبيع قبل القبض ينفسخ العقد فيتبين أنه باع ما لا يملك والغرر حرام لما روينا."

(کتاب البیوع، باب التولية، فصل بيع العقار قبل قبضه، ج:4 ص:80  ط: رشیدیه)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503102425
تاریخ10-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں