بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حُرَیث/Hurais نام رکھنا درست اور باعثِ برکت ہے

سوال

کیا حُریث نام صحابی کا ہے؟ یہ نام رکھنا درست ہے یا نہیں؟

جواب

جی ہاں! حُرَیث/Hurais غزوہ بدر میں شامل ہونے والے انصار صحابہ کرام میں سے صحابی سمیت  کئی صحابہ کرام کا نام ہے،اس لیے یہ نام رکھنا درست اورباعثِ برکت ہے۔

طبقات ابن سعد میں ہے:

"حريث بن زيد بن عبد ربه".

(اصحابِ غزوہ بدر، ح،  ج:2، ص:410 ، ط:دار الاشاعت)

الإصابة فى تمييز الصحابة میں ہے:

"‌‌1690- ‌حريث العذري:قال ابن عساكر: له صحبة. وروى من طريق الواقدي قال:لما نزل أسامة بن زيد بوادي القرى- يعني في خلافة أبي بكر- بعث عينا له من بني عذرة يسمى حريثا. فذكر قصة.

وروى ابن قانع من طريق ابن بسطاس عن أبيه عن عمرو بن ‌حريث العذري، عن أبيه، قال: وفدنا على النبي صلى الله عليه وسلم فسمعته يقول: «في سائمة الغنم الزكاة»

‌‌2090- ‌حريث بن شيبان، والد بكر بن وائل. ذكره عبدان هكذا، واستدركه أبو موسى، وإنما هو ‌حريث بن حسان كما تقدم على الصواب. وبذلك ذكره ابن مندة، فلا وجه لاستدراكه

‌‌2091 ز- ‌حريث، أبو فروة السلمي:ذكره عبد الصمد بن سعيد فيمن نزل حمص من الصحابة فصحف اسمه وكنيته جميعا، وهو حدير أبو فروة، كما تقدم على الصواب، وقرأته بخط مغلطاي حرب- بسكون الراء بعدها موحدة، وهو تصحيف أيضا".

(ج:2، ص:49، ط:دارالكتب العلمية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503102235
تاریخ08-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں