بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دیگر مسالک کے لوگوں کو ملازم رکھنے کا حکم

سوال

ہمارا ریسٹورنٹ ہے، اس میں مختلف اقسام کے  کام مثلاً کھانا پکانے والے،اور ان کے ہیلپر اسی طرح  صفائی کرنے والےاور بیرے  شامل ہیں ،ان میں بعض بریلوی، شیعہ، گلگتی اور دیگر مسالک کے لوگ ہیں، لہذا ان کو دیہاڑی پر ریسٹورنٹ میں  ملازم رکھنا جائز ہے؟  

جواب

صورتِ  مسئولہ میں  سائل   ملازمت  پر  رکھنے کے لیے اپنے ہم مسلک لوگوں کو ترجیح دے، باقی اگر ہم مسلک  نہ  ملے تو   دیگر  مسالک کے لوگوں کو بھی  ملازمت پر  رکھ سکتے ہیں۔  البتہ اگر جانور  بھی خود ذبح کرتے ہوں تو ضروری ہے کہ ذبح کرنے والا کفریہ عقیدہ نہ رکھتا ہو، اور ذبح کے وقت صرف اللہ کا نام لے کر ذبح کرے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"لا بأس بأن يكون بين ‌المسلم ‌والذمي ‌معاملة إذا كان مما لا بد منه كذا في السراجية ."

(كتاب الكراهية،الباب الرابع عشر في أهل الذمة والأحكام التي تعود إليهم،348/5، ط: رشیدية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503102064
تاریخ06-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں