بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ارحاء نام رکھنے کا حکم

سوال

بچی کا ارحا یا ارہا نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں لفظ "ارہا " یعنی"ہ" کے ساتھ عربی اردو لغات میں مستعل نہیں ،البتہ اس کا تلفظ  عربی لغت میں"ارحا" یعنی "ح"کے ساتھ کیا جاتا ہے،اور اس معنی" چکی اور داڑھ کے ہیں"اوراس کے اندر کسی چیز کو گھمانے کا معنی بھی ہے،لہذا بہتر یہ ہے کہ صحابیات کے ناموں میں سے کسی نام کا انتخاب کر کے نام رکھا جائے۔

المدخل إلى تقويم اللسان میں ہے:

"ويقولون لبيت ‌الرحا: (الطاحونة). وإنما الطاحونة الطحانة التي تدور بالماء، والجمع: الطواحين."

(باب ما جاء لشيئين أو لأشياء فقصروه على واحد، ص:375 ط: دار البشائر)

المغرب فی ترتیب المعرب میں ہے:

"رحي"  الرَّحى مؤنث وتثنيتُها رحَيان والجمع أرحاءُ وأَرْحٍ وأنكر أبو حاتم الأَرْحِية. وقوله: ما خلا الرَحَى أي وضع الرحى وتستعار، الأرحاء للأضراس وهي اثنا عشر."

( باب الراء المهملة، الراء مع الدال المهملة، ص:186 ط: دار الکتاب العربی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144503102052
تاریخ05-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں