بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حاکم یا کمپنی کے سربراہ کا ملازمین کو داڑھی رکھنے پر مجبور کرنا

سوال

 کوئی حاکم اپنے ملازم کو داڑھی رکھنے پر مجبور کرسکتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ داڑھی رکھنا واجب ہے اور داڑھی  مونڈھنا یا اس حد تک کتروانا کہ ایک مشت سے کم ہوجائے گناہ ہے، لہذا   حاکم کے لیے اپنی رعیہ کو یا کسی ادارہ کے بڑے کے لیے اپنے ما تحت ملازمین کو  اس گناہ سے روکنا شرعا جائز ہے، بلکہ شریعت کا حکم ہے کہ وہ اپنے ما تحت لوگوں کو اس  گناہ سے ہاتھ سے روکے اور اس کو داڑھی رکھنے پر آمادہ کرے۔ 

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " «من رأى منكم منكرا فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان» ". رواه مسلم

فليغيره بيده) أي: بأن يمنعه بالفعل بأن يكسر الآلات ويريق الخمر ويرد المغصوب إلى مالكه.....وقد قال بعض علمائنا: الأمر الأول للأمراء، والثاني للعلماء، والثالث لعامة المؤمنين......ثم اعلم أنه إذا كان المنكر حراما وجب الزجر عنه، وإذا كان مكروها ندب، والأمر بالمعروف أيضا تبع لما يؤمر به، فإن وجب فواجب، وإن ندب فمندوب، ولم يتعرض له في الحديث لأن النهي عن المنكر شامل له، إذ النهي عن الشيء أمر بضده، وضد المنهي إما واجب أو مندوب أو مباح والكل معروف، وشرطهما أن لا يؤدي إلى الفتنة، كما علم من الحديث، وأن يظن قبوله، فإن ظن أنه لا يقبل فيستحسن إظهار شعار الإسلام."

(کتاب الاداب ، باب لامر بالمعروف، ج نمبر ۸، ص نمبر ۳۲۰۸، دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503101947
تاریخ05-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں