بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیٹی کا نام سنینہ فاطمہ رکھنے کا حکم

سوال

اللہ تعالیٰ نے بیٹی جیسی رحمت سے نوازا ہے، میں اس کا نام سنینہ فاطمہ رکھنا چاہتا ہوں، کیا یہ درست نام ہے؟

جواب

"سُنَیْنَة"  (’س‘ کے پیش اور ’ن‘ کے زبر کے ساتھ) ایک صحابیہ کا نام ہے، جن کا پورا نام سنينة بنت مخنف بن زيد النكرية  ہے،نیز"فاطمة" رسول اللہ ﷺ کی لخت جگر اور پیاری بیٹی (فاطمہ بنت محمد ﷺ) کا بابرکت نام ہونے کے ساتھ ساتھ بیس (20) سے زیادہ صحابیات کا بھی نام مبارک ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے لیے اپنی نومولود بیٹی کا نام "سُنَینَہ فَاطِمَہ" رکھنا ناصرف جائز ہے، بلکہ باعث برکت و سعادت بھی ہے۔

تاج العروس میں ہے :

"(وفاطمة عشرون صحابية) بل أربعة وعشرون، وهن:

فاطمة بنت رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم سيدة نساء العالمين."

(باب :ف،ط،م،ج:33،ص:209،ط:دارالهداية)

اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابہ میں ہے:

"مخنف البكري ( مخنف البكري يعد فِي البصريين.)

روت عنه ابنته ‌سنينة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " يا مخنف، صل رحمك يطل عمرك، وافعل الخير يكثر خير بيتك، واذكر الله عز وجل عند كل حجر ومدر يشهد لك يوم القيامة ."

(باب الميم والخاء، ج:5، ص:122، ط:دارالكتب العلمية)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144503101797
تاریخ03-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں