بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دل میں گالی اور بدعا کا خیال آنا

سوال

غصےکی حالت میں کسی کے لئے دل میں گالیاں اور بددعاںٔیں آںٔیں تو کیا اس کا گناہ ہو گا؟

جواب

اگر کسی شخص کے دل میں بلا اختیار جذبات کی وجہ سے ایسے الفاظ پیدا ہوتے ہوں جو  نامناسب ہوں،   قصدًا وہ خیالات نہ لاتا ہواور قصدا   گالی کے الفاظ دل میں پیدا نہ کرتا ہو تو اس میں کوئی گناہ نہیں ہےاور اگر قصدا کسی سے دل میں کینہ یا بغض رکھتا ہو جس کی وجہ سے یہ جذبات پیدا ہوتے ہوں تو گناہ گار ہوگا۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الله تعالى تجاوز عن أمتي ما وسوست به صدورها ما لم تعمل به أو تتكلم."

(كتاب الايمان، باب الوسوسة، الفصل الاول ، ج:1، ص:26،ط:المكتب الاسلامي)

فقط واللہ اعلم  

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503101759
تاریخ03-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں