بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خطبہ کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ کس طرف ہوتا تھا؟

سوال

 خطبہ جمعہ کے دوران امام کس طرف دیکھے ؟ میں نے بعض علماء کو دیکھا ہے کہ وہ مقتدیوں کی جانب دیکھ کر خطبہ پڑھتے ہیں۔ لہٰذا اس مسئلہ میں رہنمائی فرمائیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے خطبہ دینے کا طریقہ کیا ہوا کرتا تھا ؟ 

جواب

حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دیتے وقت لوگوں کی طرف دیکھتے تھے، لہذا خطیب کو خطبہ دیتے وقت لوگوں کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔

زاد المعاد في هدي خير العباد میں ہے:

"وكان يمهل يوم الجمعة حتى يجتمع الناس، فإذا اجتمعوا خرج إليهم وحده من غير شاويش يصيح بين يديه، ولا لبس طيلسان ولا طرحة ولا سواد، فإذا دخل المسجد سلم عليهم، فإذا صعد المنبر استقبل الناس بوجهه وسلم عليهم، ولم يدع مستقبل القبلة، ثم يجلس ويأخذ بلال في الأذان، فإذا فرغ منه قام النبي صلى الله عليه وسلم فخطب من غير فصل بين الأذان والخطبة، لا بإيراد خبر ولا غيره".

(فصل في هديه صلى الله عليه وسلم في خطبه، ج:1، ص:414، ط:مکتبۃ المنار الاسلامیۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503101752
تاریخ03-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں