بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فجر کی سنتوں کے بعد نوافل پڑھنے کا حکم

سوال

کیا فجر کی سنتیں ادا کرنے کے بعد نفل نہیں پڑھ سکتے؟ہماری مسجد کے امام صاحب نے کہا کہ اس وقت میں نفل نہیں پڑھتے۔

جواب

صورتِ مسؤلہ میں مسجد کے امام صاحب کایہ کہنا کہ فجر کی سنتوں کے بعد نفل نہیں پڑھتے، بالکل درست ہے،کیوں کہ  فجر کی سنتوں کے بعد کسی قسم کے نوافل ادا کرناشرعاً مکروہ ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"تسعة أوقات يكره فيها النوافل وما في معناها لا الفرائض...منها ما بعد طلوع الفجر قبل صلاة الفجر. كذا في النهاية والكفاية يكره فيه التطوع بأكثر من سنة الفجر."

(كتاب الصلاة، الباب الأول، الفصل الثالث في بيان الأوقات التي لا تجوز فيها الصلاة وتكره فيها، ج:1، ص:52،ط:دارالفكر)

فقط والله اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503101751
تاریخ03-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں