بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جمعہ کے دو خطبوں کے درمیان بیٹھنا

سوال

گزارش یہ ہے کے جمعہ کے دو خطبوں کے درمیان خطیب کےبیٹھنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟  اور اس کی  مشروعیت کب سے ہوئی ،اس حوالے سے قدرے تفصیل سے آگاہی فرمائیں۔

جواب

جمعہ کے دو خطبوں کے درمیان بیٹھنا سنت ہے اور  اس کی مشروعیت جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دونوں خطبوں کے درمیان تھوڑی دیر بیٹھتے تھے۔

چنانچہ حدیث شریف میں ہے:

"وحدثني عن مالك، عن جعفر بن محمد، عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم «‌خطب ‌خطبتين يوم الجمعة، وجلس بينهما»۔"

( کتاب الجمعة، باب القعدة بین الخطبتین یوم الجمعة، ج:1، ص:127، ط: قدیمي)

ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن دو خطبے دیتے تھے، ان دونوں کے درمیان بیٹھتے تھے۔ 

مراقی الفلاح شرح نور الإيضاح ميں هے :

"و يسن خطبتان للتوارث إلى وقتنا، و يسن الجلوس بين الخطبتين."

(كتاب الصلاة ، باب صلاة الجمعة ،ص: 196،ط:المكتبة العصرية )

فقط والله اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503101729
تاریخ02-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں