بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام قرطبی کے ایک قول کی تحقیق

سوال

کیا یہ امام القرطبی رحمه اللہ کا قول ہے ؟رہنمائی فرمائیں: 

جِس کے گناہ زیادہ ہوں تو اُسے چاہیے کہ پانی پلائے؛ کیونکہ اللہ نے کتے کو پانی پلانے والے کے گناہ معاف کر دئیے تو اُس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جِس نے مومن کو پانی پلایا؟

جواب

امام قرطبی رحمہ اللہ  نے بعض تابعین کے حوالے سے اس قول کو ذکر کیا ہے۔

"وقد قال بعض التابعين: من كثرت ذنوبه فعليه بسقي الماء. وقد غفر الله ذنوب الذي سقى الكلب، فكيف بمن سقى رجلا مؤمنا موحدا وأحياه."

(الجامع لإحكام القرآن، أبو عبد الله القرطبي، ط: دار الكتب المصرية- القاهرة، الطبعة الثانية، 1384ه-1964م، ج: 7، ص: 215)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503101721
تاریخ02-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں