بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے پیسوں سے مسجد میں نقش و نگار کرنا

سوال

 مسجد کے پیسوں سے مسجد میں نقش ونگار کرنا کیسا ہے؟ اس طرح رنگ وغیرہ کرنا کیسا ہے مسجد کے پیسوں سے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مسجد کے اجتماعی چندہ کی رقم سے مسجد کے نقش و نگار میں خرچ کرنا جائز نہیں ہے،البتہ اگر کوئی شخص اپنی خوشی سے اپنی ذاتی رقم اس مقصد میں خرچ کرے تو جائز ہے،البتہ مسجد کے اجتماعی چندہ کی رقم سے مسجد میں رنگ کروانا جائز ہے،بشرط یہ کہ مسجد میں  رنگ کروانے کی ضرورت ہو۔

فتح القدیر میں ہے:

(ولا بأس أن ينقش المسجد بالجص والساج وماء الذهب ) وقوله لا بأس يشير إلى أنه لا يؤجر عليه لكنه لا يأثم به، وقيل هو قربة .........وهذا إذا فعل من مال نفسه، أما المتولي فيفعل من مال الوقف ما يرجع إلى إحكام البناء دون ما يرجع إلى النقش حتى لو فعل يضمن."

(‌‌‌‌كتاب الصلاة،باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها،فصل ويكره استقبال القبلة بالفرج في الخلاء،ج1، ص421،ط: دار الفکر بیروت)

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:

"الجواب:مسئلہ یہ ہے کہ اپنے مال حلال سے ایسے تکلفات کرنا درست ہے ،اور مال وقف سے درست نہیں ،مگر جب کہ آمدنی وقف  سے بہت سا روپیہ جمع ہوگیا اور حاجات ضروریہ تعمیر وغیرہ سے زائد ہو تو درست ہے ۔"

(ج13،ص454،ط:دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503101719
تاریخ02-10-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں