تاریخِ پیدائش یا وقتِ پیدائش کے اعتبار سے نام رکھنے کی شرعاً کوئی حیثیت نہیں/نومولود بچی کے لیے تجویز کردہ چند نام
سوال
12 ربیع الاول کو بیٹی کی پیدائش ہوئی ہے، اس کا نام رکھنے کے لیے حرف بتائیں، کوئی اچھے نام ہوں تو وہ بھی بتادیں۔
جواب
واضح رہے کہ تاریخِ پیدائش یا وقتِ پیدائش کے اعتبار سے نام رکھنے کا کوئی تصور نہیں ، اور نہ ہی اس کی کوئی شرعی حیثیت ہے، نام رکھنے کا ادب یہ ہے کہ اس میں نیک لوگوں کی نسبت ملحوظ ہو، مثلًا انبیاءِ کرام علیہم السلام یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یا نیک مسلمانوں کے نام پر ہو، یا اچھا بامعنی لفظ ہو، لہٰذا بچی کا نام ایسا رکھنا چاہیے جو اُمہات المومنین، صحابیات رضی اللہ عنہن یا نیک مسلمان خواتین کے ناموں میں سے کوئی نام ہو، یا ایسا نام ہو جو معنی کے اعتبار سے اچھا ہو۔
آپ کی سہولت کے لیے اُمہات المومنین اور صحابیات رضی اللہ عنہن کےچند اسماء گرامی درج ذیل ہیں:
عائشہ، خدیجہ، حفصہ، رملہ، میمونہ، ماریہ، ریحانہ، صفیہ، زینب، فاطمہ، نائلہ، اُمامہ، خنساء، خولہ، آمنہ، بُریدہ، بَرِیرہ، جویریہ، حواء، حسّانہ، خالدہ، سُعاد، نَفیسہ۔
سنن أبی داود میں ہے:
"عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم، وأسماء آبائكم، فأحسنوا أسماءكم".
ترجمہ:"حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگوں کو قیامت کے دن تمہارے اور تمہارے باپ کے نام سے پکارا جائے گا، لہٰذا اپنے نام اچھے رکھو۔ (یعنی والدین اولاد کے نام اچھے رکھیں)۔"
(كتاب الأدب، باب في تغيير الأسماء، ج:4، ص:287، ط:المكتبة العصرية)
فقط والله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

