بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 جُمادى الأولى 1448ھ 05 نومبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تکبیرات انتقالیہ میں تکرار کا حکم

سوال

ہمارے یہاں امام صاحب نماز میں تکبیرات انتقالیہ میں تکرار کرتے ہیں جیسے "سمع اللہ لمن حمدہ" کے بعد پھر قدرے آواز سے "اللہ اکبر" کہتے ہیں، آیا امام صاحب کا اس طرح کرنا درست ہے؟ ان کے پیچھے مقتدیوں کی نماز کا کیا ہوگا؟ 

جواب

نماز کی حالت میں ایک رکن سے دوسرے رکن کی طرف جاتے وقت ایک مرتبہ تکبیر کہنا سنت ہے،اگر کوئی ایک سے زائد مرتبہ تکبیر کہے تو اس سے نماز تو ہوجائے گی،البتہ جان بوجھ کر ایسا نہیں کرنا چاہیے ۔

باقی مذکورہ سوال مبہم  اور وضاحت طلب ہے ، تکبیرات انتقالیہ میں تکرار کس طرح ہوتا ہے ؟ اس کی وضاحت کی جائے،نیز سمع اللہ لمن حمدہ کے بعد قدرے آواز سے جو امام صاحب اللہ اکبر کہتے ہیں تو یہ تکبیر سجدے میں جانے کے لیے کہتے ہیں یا کسی اور مقصد سے کہتے ہیں ؟مکمل وضاحت کے بعد اس کا جواب دیا جاسکتا ہے۔

مجمع الانہر میں ہے:

"والتكبير ‌سنة كذا في أكثر الكتب."

(كتاب الصلوة، ج:١، ص:٩٨، ط:دار إحياء التراث العربي)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503101491
تاریخ30-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں